اختر شماری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (لفظاً) تارے گنتے رہنا؛ (مجازاً) شب بھر جاگنا، بے چینی میں کروٹیں بدلتے رہنے کی کیفیت، اضطراب۔ "نہ آہ و زاری کی ضرورت نہ اختر شماری کی حاجت۔"      ( ١٩٢٦ء، رسوا، اختری بیگم، ٢٥٩ )

اشتقاق

فارسی زبان کے لفظ 'اَخْتَر' کے ساتھ فارسی زبان کے مصدر 'شمردن' سے فعل امر 'شمار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگایا گیا ہے۔

مثالیں

١ - (لفظاً) تارے گنتے رہنا؛ (مجازاً) شب بھر جاگنا، بے چینی میں کروٹیں بدلتے رہنے کی کیفیت، اضطراب۔ "نہ آہ و زاری کی ضرورت نہ اختر شماری کی حاجت۔"      ( ١٩٢٦ء، رسوا، اختری بیگم، ٢٥٩ )

جنس: مؤنث